مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کی دفاعی طاقت اس وقت کامیاب سمجھی جاتی ہے جب اس کا مخالف کسی کارروائی سے پہلے یا لڑائی کے دوران اپنے منصوبے تبدیل کرنے پر مجبور ہوجائے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جنگ ہر صورت رک جائے، بلکہ بعض اوقات جاری بحران کے دوران بھی اس کے اثرات نمایاں ہوجاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جب کوئی بڑی طاقت جنگ کو مزید بڑھانے کے بجائے اس سے نکلنے کے راستے، اپنے نقصانات کم کرنے اور سیاسی ساکھ بچانے پر غور کرنے لگے تو یہ اس بات کی نشانی ہوتی ہے کہ اس کے ابتدائی اندازے اور منصوبے بدل چکے ہیں۔
ایران نے گزشتہ کئی برسوں میں اپنی دفاعی صلاحیت، میزائل نظام، فضائی دفاع اور دیگر عسکری وسائل کو مسلسل مضبوط بنایا ہے۔ اس کا مقصد صرف فوجی برتری حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ ایران کے خلاف کسی بھی حملے کو اتنا مہنگا اور مشکل بنا دینا تھا کہ دشمن ایسا قدم اٹھانے سے پہلے کئی بار سوچے۔
مغربی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے بعض تجزیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران کی اس حکمت عملی نے امریکی فیصلہ سازوں کی سوچ اور منصوبہ بندی پر واضح اثر ڈالا ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ تمام خطرات ختم ہوگئے ہیں یا مستقبل میں کشیدگی دوبارہ پیدا نہیں ہوسکتی۔ ایران اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ بتاتی ہے کہ حالات بدلنے کے ساتھ واشنگٹن کی پالیسیاں بھی تبدیل ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے ایران کے لیے اپنی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا اور ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار رہنا بدستور ضروری ہے۔
نیویارک ٹائمز کی حالیہ رپورٹ، جس میں ٹرمپ کے لیے بحران سے نکلنے کی مشکلات، امریکہ کے محدود ہوتے عسکری اختیارات اور دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں کمی کا ذکر کیا گیا، اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ میں بھی ایران کی دفاعی طاقت کے اثرات کو سنجیدگی سے دیکھا جارہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے ممکنہ جنگ کی قیمت اس حد تک بڑھا دی ہے کہ اب امریکہ کے لیے فوجی کارروائی آسان یا کم خرچ فیصلہ نہیں رہی، بلکہ ہر قدم اٹھانے سے پہلے اسے اس کے سنگین نتائج اور بھاری قیمت کا حساب لگانا پڑ رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ